حضرت عیسیٰ المسیح کی تمثیلوں کے زریعے تعلیم

ہم نے دیکھا کہ حضرت عیسیٰ المسیح نے لاثانی اختیار کے ساتھ تعلیم دی۔ اُنہوں نے ہمیشہ ایسی کہانیوں کے زریعے تعلیم دی جوزندگی کے سچے اصولوں کو بیان کرتے ہیں۔مثال کے طور پر، ہم نے دیکھا کہ کیسے اُنہوں نے ایک عظیم ضیافت کی تمثیل سےاللہ تعالیٰ کی بادشاہی کے بارے میں تعلیم دی۔ اور کیسے اُنہوں نے معافی کے تعلیم دیتے ہوئے ایک ظالم نوکر کی تمثیل سے سیکھایا۔ ان کہانیوں کو تمثیل کہتے ہیں۔ حضرت عیسیٰ المسیح انبیاء اکرام کے درمیان لاثانی نبی ہیں اور اُنہوں نے سیکھاتے ہوئے بہت زیادہ تمثیل کا استعمال کیا۔ اور کس قدر وہ اہم تھیں۔ آپ کے حواریوں نے آپ سے ایک بار پوچھا کہ آپ کیوںکہ لوگوں کو تمثیلوں میں لوگوں کو سیکھاتے ہیں۔ انجیل شریف میں سوال کا جواب اس طرح لکھا ہوا ہے۔

ہم نے دیکھا کہ حضرت عیسیٰ المسیح نے لاثانی اختیار کے ساتھ تعلیم دی۔ اُنہوں نے ہمیشہ ایسی کہانیوں کے زریعے تعلیم دی جوزندگی کے سچے اصولوں کو بیان کرتے ہیں۔مثال کے طور پر، ہم نے دیکھا کہ کیسے اُنہوں نے ایک عظیم ضیافت کی تمثیل سےاللہ تعالیٰ کی بادشاہی کے بارے میں تعلیم دی۔ اور کیسے اُنہوں نے معافی کے تعلیم دیتے ہوئے ایک ظالم نوکر کی تمثیل سے سیکھایا۔ ان کہانیوں کو تمثیل کہتے ہیں۔ حضرت عیسیٰ المسیح انبیاء اکرام کے درمیان لاثانی نبی ہیں اور اُنہوں نے سیکھاتے ہوئے بہت زیادہ تمثیل کا استعمال کیا۔ اور کس قدر وہ اہم تھیں۔ آپ کے حواریوں نے آپ سے ایک بار پوچھا کہ آپ کیوںکہ لوگوں کو تمثیلوں میں لوگوں کو سیکھاتے ہیں۔ انجیل شریف میں سوال کا جواب اس طرح لکھا ہوا ہے۔

یسوع نے تمثیلوں کا استعمال کیوں کیا ؟

10 تب شاگرد یسوع کے پا س آکر پوچھنے لگے“آپ تمثیلوں کے ذریعہ لو گوں کو کیوں تعلیم دیتے ہیں؟”۔
11 یسوع نے کہا، “خدا کی بادشاہت کی پو شیدہ سچا ئی کو سمجھنے کی صرف تم میں صلا حیت ہے۔ اور ان پوشیدہ سچا ئی کو دیگر لوگ سمجھ نہیں پاتے 12 جس کو تھوڑا علم و حکمت دی گئی ہے وہ مزید علم حا صل کر کے علم و حکمت وا لا بنے گا۔ لیکن جو علم وحکمت سے عا ری ہو گا۔ وہ اپنے پاس کا معمو لی نام علم بھی کھو دے گا۔ 13 اسی لئے میں ان تمثیلوں کے ذریعہ لو گوں کو تعلیم دیتا ہوں۔ ان لوگوں کا حا ل یہ ہے کہ یہ دیکھ کر بھی نہیں دیکھنے کے برا بر اور سن کر بھی نہ سننے کے برا بر ہیں۔ متّی 13:10-13

آپ کے آخری الفاظ حضرت یسعیاہ نبی ؑ کے تھے۔ جو 700 ق م میں اپنی قوم پر نازل ہوئے۔ حضرت یسعیاہ نبی ؑ دل کی سختی کے خلاف خبردار کیا تھا۔ دوسرے الفاظ میں کئی بار ہم کسی چیز کو ٹھیک طور پر نہیں جان پاتے اور کیونکہ ہم نے اُس کی وضاحت یا پھر وہ بہت ہی زیادہ پیچیدہ ہوتی ہے۔ اس صورت حال میں ایک واضح وضاحت پیچیدگی کو ختم کردیتی ہے۔ لیکن اس علاہ کئی بار ہم بات کو نہیں سمجھ پاتے۔ کیونکہ ہم دلی گہرائیوں سے اُس بات کو سمجھنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ ہم چاہیے اس بات کا اقرار نہ کریں۔ لہذا ہم سوالات پوچھتے جاتے ہیں۔ شاید دماغی فہم کی کمی ہمارے شاید ہمارے اندر دماغی فہم کی کمی ہے۔ لیکن اگر الجھن ہمارے دلوں میں ہے اور ہمارے دماغ میں نہیں تو کوئی بھی وضاحت کافی نہیں ہوگی۔ یہاں پر مسئلہ یہ ہے۔ کہ یم سمجھنے کے لیے راضی نہیں نہ کہ ہم ذہینی طور پر سمجھ نہیں سکتے۔
جب بھی حضرت عیسیٰ المسیح تمثیلوں کے زریعے سکھاتے تو اس بات کا اثر بھیڑ پر بڑے ڈرامائی انداز میں ہوا۔ جو لوگ آسانی سے کہانی کو سمجھ نہ پاتے۔ وہ اس کے بارے متجسس ہوجاتے اور اس کو سمجھنے کے لیے دوسروں سے کہتے۔ جبکہ وہ لوگ جو کہانی کو سمجھنے کے لیے تیار نہیں ہوتے تھے۔ وہ اس کو ناپسندیدہ اور نظرانداز کرتے۔ وہ اس کے بارے میں مزید سوچنا پسند بھی نہ کرتے۔ تمثیلوں کا استعمال ماہر استاد کرتے۔ تاکہ وہ لوگوں کا جدا کرسکیں۔ جیسے کسان گندم کو بھوسے سے لگ کرتا ہے۔ جو لوگ کہانی کو سمجھنا نہیں چاہتے تھے۔ وہ الجھن کا شکار ہوگے۔ کیونکہ اُنہوں نے اپنی دلی مرضی سے سچائی کو قبول کرنا نہ چاہا۔ اگرچہ وہ دیکھتے تو تھے لیکن وہ اس بات کی گہرائی کو سمجھتے نہیں تھے۔

بیج بونے والا اور چار مختلف اقسام کی زمین

جب حضرت عیسیٰ کے حواریوں نےکہانیوں کے انداز میں تعلیم دینے کے بارے میں سوال کیا۔ تو وہ آپ اُس وقت اللہ تعالیٰ کی بادشاہی کے بارے میں ایک گروہ کو کہانیوں کے زریعے سیکھا رہے تھے۔ یہاں پر پہلی کہانی ہے۔

تب یسوع نے تمثیلوں کے ذریعہ کئی چیزیں انہیں سکھا ئیں۔ اور یسوع انکو یہ تمثیل دینے لگے کہایک کسان بیج بونے کے لئے گیا۔ “جب وہ تخم ریزی کررہا تھا تو چند بیج راستے کے کنارے پر گرے۔ اور پرندے آکر ان تمام بیجوں کو چگ گئے۔ چند بیج پتھریلی زمین میں گر گئے۔ اس زمین میں زیا دہ مٹی نہ ہو نے کے وجہ سے بیج بہت جلد اگ آئے۔ لیکن جب سورج ابھرا، اس نے پودوں کو جھلسا دیا۔ تو وہ اُگے ہوئے پو دے سوکھ گئے۔ اس لئے ان کی جڑیں گہرا ئی تک نہ جا سکیں۔ دیگر چند بیج خا ر دار جھا ڑیوں میں گر گئے۔اور وہ خا ر دار جھا ڑیوں نے ان کو دبا کر ان اچھے بیجوں کی فصل کو آگے بڑ ھنے سے روک دیا۔ دوسرے چند بیج اچھی زر خیز زمین میں گر گئے۔ اور وہ نشو نما پا کر ثمر آور ہوئے بعض پودے صد فیصد بیج دیئے ،اور بعض پودے ساٹھ فیصد سے زیادہ اور بعض نے تیس فیصد سے زائد بیج دئیے۔ میری باتوں پر کان دھر نے والے لوگوں نے ہی غور سے سنا۔”  متّی 13:3-9

تو اس تمثیل کا کیا مطلب تھا؟ ہمیں اندازہ نہیں لگانا چاہئے، وہاں پر ایسے لوگ تھے جو دلی طور پر اس کہانی کو سمجھنا چاہتے تھے۔ اُنہوں نے اس کے بارے میں پوچھا اور یہاں آپ نے بیان کردیا تھا۔

18 “ایسی صورت میں کسان کے متعلق کہی گئی تمثیل کے معنی سنو۔

19 سڑک کے کنارے میں گر نے والے بیج سے مرا د کیا ہے ؟راستے کے کنارے گرے بیج اس آدمی کی مانند ہیں جو آسمانی بادشاہت کے متعلق تعلیمات کو سن رہا ہے لیکن سمجھ نہیں رہا ہے۔ اسکو نہ سمجھنے والا انسان ہی راستے کے کنارے گرے ہو ئے بیج کی طرح ہے۔ برا شخص آکر اس آدمی کے دل میں بوئے گئے بیجوں کو نکال کر باہر پھینک دیتا ہے۔

20 اور پتھریلی زمین میں گرے ہو ئے بیج سے مراد کیا ہے ؟ وہ بیج اس شخص کی مانند ہے جو بخوشی تعلیمات کو سنتا ہے اور ان تعلیمات کو بخوشی فوراً قبول کر لیتا ہے۔ 21 لیکن وہ آدمی جو کلام کو اپنی زندگی میں مستحکم نہیں بنا تا اور وہ اس کلام پر ایک مختصر وقت کے لئے عمل کرتا ہے۔ اور اس کلام کو قبول کر نے کی وجہ سے خود پر کو ئی تکلیف یا مصیبت آتی ہے تو وہ اسکو جلد ہی چھوڑ دیتا ہے۔

22 “خار دار جھا ڑیوں کے بیچ میں گر نے والے بیج سے کیا مراد ہے تعلیم کو سننے کے بعد زندگی کے تفکّرات میں اور دولت کی محبت میں تعلیم کو اپنے میں پر وان نہ چڑھا نے والا ہی خار دار زمین میں بیج کے گرنے کی طرح ہے۔یہی وجہ ہے کہ تعلیم اس آدمی کی زندگی میں کچھ پھل نہ دیگی۔

23 اور کہا کہ اچھی زمین میں گرنے والے بیج سے کیا مراد ہے ؟تعلیم کو سن کر اور اسکو سمجھ کر جاننے والا شخص ہی اچھی زمین پر گرے ہو ئے بیج کی طرح ہو گا۔ وہ آدمی پر وان چڑھکر بعض اوقات سو فیصد اور بعض اوقات ساٹھ فیصد اور بعض اوقات تیس فیصد پھل دیگا۔”

 متّی 13:18-23

ہم دیکھ سکتے ہیں یہاں پر اللہ تعالیٰ کی بادشاہی کے بارے میں چار مختلف جوابات ہیں۔ پہلے وہ ہیں جن کو کلام اللہ کی ‘سمجھ ‘ نہیں آئی اور ابلیس آیا اور اُن کے دلوں میں سے پیغام کو چرا کر لے گیا۔ باقی رہ گے تین۔ اںہوں نے کلام اللہ کو بڑی خوشی سے قبول کرلیا۔ لیکن اس پیغام کو ہمارے دلوں میں پروان چڑھنے میں مشکل پیش آئی۔ یہ صرف ہمارے ذہنوں میں تسلیم کرنے کی ہی بات نہیں تھی۔ اس کا یہ بھی مطلب نہیں تھا کہ ہم جیسا چاہیں ویسے رہیں۔ تاہم ان تین میں سے دو نے ابتدا میں قبول تو کرلیا تھا لیکن اس پیغام کو اپنے دلوں میں پروان چڑھنے نہ دیا۔ صرف ان میں سے چوتھا دل ہی ایسا تھا۔ جس نے اس پیغام پر پوری توجہ سے سُن اور اُس پر ایمان لایا اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے لیے تیار بھی ہوگیا جیسے اللہ تعالیٰ کی مرضی تھی۔

اس کہانی کے میں ایک نقطہ جس کے بارے میں ہم سوال کرنا چاہتے ہیں؟ ‘اس کہانی میں چار اشخاص میں سے میں کون ہوں؟’ صرف وہی اچھی فصل ثابت ہوئے جنہوں نے اُس پیغام کو سمجھا۔ ایک فہم اور تفہیم کے لیے ضروری یہ ہے کہ ہم حضرت آدمؑ سے شروع کرکے انبیاءاکرام تک اللہ تعالیٰ کے منصوبہ کو تورات اور زبور شریف میں سے جانیں۔ حضر ت آدمؑ کے نشان کے بعد اہم نشانات تورات شریف میں حضرت ابراہیم ؑ سے وعدے اور قربانی میں سے آتے ہیں۔ حضرت موسیٰ ؑ کے دس احکامات، اور حضرت ہارونؑ۔ زبور شریف میں "مسیح” کی ابتداء کی سمجھنے کے بعد، حضرت یسعیاہ ؑ، زکریاہؑ، دانیال، اور ملاکی ؑ کی کتابوں میں سے اللہ تعالیٰ کی بادشاہی کے پیغام کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔

اس تمثیل کی وضاحت کے بعد حضرت عیسیٰ المسیح گھاس کی مثال کے زریعے سیکھاتے ہیں۔

گیہوں اور گھاس پھوس کی تمثیل

24 تب یسوع انکو ایک اور تمثیل کے ذریعہ تعلیم دینے لگے۔ وہ یہ کہ“ آسمان کی بادشاہت سے مراد ایک اچھے بیج کو اپنے کھیت میں بونے والے ایک کسان کی طرح ہے۔ 25 اس رات جب کہ سب لوگ سو رہے تھے تو اسکا ایک دشمن آیا اور گیہوں میں گھاس پھوس کو بودیا۔ 26 جب گیہوں کا پو دا نشو نما پا کر دانہ دار بن گیا تو اسکے ساتھ گھا س پھوس کے پو دے بھی بڑھنے لگے۔ 27 تب اس کسان کے خادم نے اسکے پاس آکر دریافت کیا کہ تو اپنے کھیت میں اچھے دانوں کو بویا۔ مگر وہ گھاس پھوس کا پو دا کہاں سے آ گیا ؟

28 اس نے جواب دیا، “یہ دشمن کا کام ہے تب ان خادموں نے پو چھا کہ کیا ہم جاکر اس گھاس پھوس کے پو دے کو اکھاڑ پھینکیں۔

29 “اس آدمی نے کہا کہ ایسا مت کرو کیوں کہ تم گھاس پھوس کو نکالتے وقت گیہوں کو بھی نکال پھینکو گے۔  متّی 13:24-29

یہاں پر اُنہوں نے وضاحت بیان کی ہے۔

36 تب یسوع لوگوں کو چھوڑ کر گھرچلے گئے۔ انکے شاگرد انکے قریب گئے اور ا ن سے کہا،” گو کھر و بیجوں سے متعلق تمثیل ہم کو سمجھا ؤ۔”

37 یسوع نے جواب دیا ، اس طرح کھیت میں اچھے قسم کے بیجوں کی تخم ریزی کر نے وا لا ہی ابن آدم ہے۔ 38 کھیت یہ دنیا ہے۔ اچھے بیج ہی آسما نی بادشاہت میں شا مل ہو نے وا لے خدا کے بچے ہیں اور بر ے وبد کا روں سے رشتے رکھنے وا لے ہی وہ گو کھر وکے بیج ہیں۔ 39 کڑ وے بیج کو بو نے وا لا دشمن ہی وہ شیطا ن ہے۔ فصل کی کٹا ئی کا مو سم ہی دنیا کا اختتام ہے اور اس کو جمع کر نے وا لے مز دور ہی خدا کے فرشتے ہیں۔

40 “کڑ وے دانوں کے پودوں کو اکھا ڑ کر اس کو آ گ میں جلا دیتے ہیں اور دنیا کے اختتا م پر ہو نے وا لا یہی کام ہے۔ 41 ابن آدم اپنے فرشتوں کو بھیجے گا۔اور اس کے فرشتے گنا ہوں میں ملوث برے اور شر پسند لو گوں کو جمع کریں گے۔ اور وہ انکو اس کی بادشاہت سے باہر نکال دیں گے۔ 42 فرشتے ان لوگوں کو آ گ میں پھینک دیں گے۔اور وہاں وہ تکلیف سے رو تے ہوئے اپنے دانتوں کو پیستے رہیں گے۔ 43 تب اچھے لوگ سورج کی مانند چمکیں گے۔ وہ اپنے باپ کی بادشا ہی میں ہو ں گے۔ میری باتوں پر توجہ دینے والے لوگو غور سے سنو ۔   متّی3:36-43

بیج اور خمیر کی مثال

حضرت عیسیٰ المسیح نے کچھ مختصر تمثیلوں کے ساتھ سیکھایا تھا۔

31 تب یسوع نے ایک اور تمثیل لوگوں سے کہی “آسما نی باد شاہت را ئی کے دا نے کے مشا بہ ہے۔ کسی نے اپنے کھیت میں اس کی تخم ریزی کی۔ 32 وہ ہر قسم کے دانوں میں بہت چھو ٹا دانہ ہے۔ اور جب وہ نشو نما پا کر بڑھتا ہے تو کھیت کے دوسرے درختوں سے لمبا ہو تا ہے۔ جب وہ درخت ہو تا ہے تو پرندے آکر اس کی شاخوں میں گھونسلے بناتے ہیں۔”

33 پھر یسوع نے لوگوں سے ایک اور تمثیل کہی “آسما نی بادشاہت خمیر کی مانند ہے جسے ایک عورت نے روٹی پکا نے کے لئے ایک بڑے برتن جسمیں آٹا ہے اور اس میں خمیر ملا دی ہے۔ گو یا وہ پورا آٹا خمیر کی طرح ہو گیا ہے۔”  متّی 13:31-33

دوسرے الفاظ میں، اللہ تعالیٰ کی بادشاہی اس دنیا میں بہت ہی چھوٹی اور غیرمعمولی انداز سے شروع ہوگی۔ لیکن بعد میں وہ خمیر کی طرح پھیل گئی۔ جیسے ایک چھوٹا سا بیج بڑھ کر ایک بڑا درخت بن جاتا ہے۔ یہ کسی قوت کے ساتھ نہیں ہوا یا ایک دم سے نہیں ہوا۔ اللہ تعالیٰ کی بادشاہی کی پوشیدگی میں ترقی کرتی ہوئی نظر آتی ہے لیکن یہ ہر جگہ پر اور بن روکے ہورہی ہے۔

پوشیدہ خزانے اور قیمتی موتی کی مثال

44 “آسما نی بادشاہت کھیت میں گڑے ہو ئے خزا نے کی مانند ہے۔ایک دن کسی نے اس خزا نے کو پا لیا۔ او ربے انتہا مسر ّت وخوشی سے اس کو کھیت ہی میں چھپا کر رکھ دیا۔ تب پھر اس آدمی نے اپنی سا ری جا ئیداد کو بیچ کر اس کھیت کو خرید لیا۔

45 “آسما نی بادشاہت عمدہ اور اصلی موتیوں کو ڈھونڈ نے وا لے ا یک سوداگر کی طرح ہے جو قیمتی موتیوں کی تلا ش کر تا ہے۔ 46 ایک دن اس تا جر کو بہت ہی قیمتی ایک مو تی ملا۔تب وہ گیا اور اپنی تمام جائیداد کو فروخت کر کے اس موتی کو خرید لیا۔    متّی 13:44-46

ان تمثیلوں کی بنیادی توجہ اللہ تعالیٰ کی بادشاہی کی قدر کو بیان کرتیں ہیں۔ ایک ایسے خزانے کی سوچ جو ایک کیھت میں پوشیدہ ہے۔ چونکہ یہ خزانہ اُس کیھت میں پوشیدہ ہے اور ہر کوئی اس کیھت کے پاس سے گزر جاتا ہے اور اُن میں سے کسی کے دل میں اس کیھت کے بارے میں کوئی بھی دلچسپی نظر نہیں آتی۔ کیونکہ وہ خزانہ پوشیدہ ہے۔ لیکن پھر کسی کو اس کیھت کے بارے میں یہ خیال آتا ہے۔ کہ اس کیھت میں کوئی خزانہ ہے۔ جس کی وجہ سے اُس کیھت کی قدر بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ وہ اس کیھت میں پوشیدہ خزانے کو حاصل کرنے کے لیے اپنا سب کچھ بیچ دیتا ہے۔ لہذا یہ اللہ تعالیٰ لی بادشاہی کا حال ہے۔ جو لوگ توجہ نہیں دیتے اُن کے لیے کوئی چیز قدر نہیں رکھتی۔ لیکن لیکن وہ جو توجہ دیتے اور اُس چیز کی قدر کو جانتے ہیں۔ وہ اُس کو حاصل کرنے لیے سب کچھ دیتے ہیں۔

جھال کی مثال

47 “آسما نی بادشاہت سمندر میں ڈالے گئے اس مچھلی کے جال کی طرح ہےجس میں مختلف قسم کی مچھلیاں پھنس گئیں۔ 48 تب وہ جال مچھلیوں سے بھر گیا۔ مچھیرے اس جال کو جھیل کے کنا رے لائے اور اس سے اچھی مچھلیاں ٹوکریوں میں ڈال لیں اور خراب مچھلیوں کو پھینک دئیے۔ 49 اس دنیا کے اختتا م پر بھی ویسا ہی ہوگا۔فرشتے آئیں گے اور نیک کا روں کو بد کاروں سے الگ کریں گے۔ 50 فرشتے برے لوگوں کو آ گ کی بھٹی میں پھنک دیں گے۔ اس جگہ لوگ روئیں گے۔درد وتکلیف میں اپنے دانتوں کو پیسیں گے۔”   متّی 13:47-50

اللہ تعالیٰ کی بادشاہی انسانوں کو جدا کرے گی۔ یہ جدائی اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کرے گا۔ جب سب دلوں کو ظاہر کردیا جائے گا۔

ہم دیکھ سکتے ہیں اللہ تعالیٰ کی بادشاہی پراسرار طریقے سے پروان چڑھتی ہوئی نظر آتی ہے۔ جس طرح آٹا میں خمیر ، اس کی پوشیدہ حزانہ جس کی بڑھی قدروقیمت ہے۔ جو سب سے چھُپی ہوئی ہے۔ اور اس سے لوگوں کے درمیان مختلف ردعمل ںظر آتا ہے۔ اس سے لوگوں کے درمیان یہ تمیز کی جاسکتی ہے۔ جواس کو سمجھ سکے اور جو اس کو نہ سمجھ سکے۔ ان مثالوں کے زریعے تعلیم دینے کے بعد حضرت عیسیٰ المسیح لوگوں سے ایک سوال پوچھتے ہیں۔

51 یسوع نے اپنے شاگردوں سے پوچھا، “کیا تم ان تمام باتوں کو سمجھ گئے ہو؟” شاگردوں نے جواب دیا “ہم سمجھ گئے ہیں”   متّی 13:51

آپ کا اس کے بارے میں کیا خیال ہے؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے