حضرت یحییٰ ؑ راہ کا تیار کرنے والا

ہم نے اپنی پچھلے مضمون میں اس بات پر غور کیا تھا۔ کہ زبور شریف کو حضرت ملاکیؑ نبی نے تکمیل کیا اور اُنہوں نے اپنی اس کتاب میں فرمایا تھا۔ کہ ایک شحص آئے گا جو راہ کو تیار کرے گا (ملاکی 3: 1)۔ ہم نے اس بات کو بھی دیکھا ہے کہ جب ہم انجیل شریف کو کھولتے ہیں۔ تو جبرایل فرشتہ حضرت یحییٰ ؑ اور حضرت عیسیٰ المسیح کی پیدائش کی بشارت دیتا ہوا نظر آتا ہے۔

حضرت یحییٰ ؑ حضرت الیاس ؑ کی روح اور طاقت میں

حضرت یحییٰ ؑ کی پیدائش کے بعد انجیلِ مقدس میں اس طرح لکھا ہے۔ (اُس کو حضرت یوحنا بپتسمہ دینے والے کے طور پر بتایا گیا

‘اور وہ لڑکا بڑھتا اور رُوح میں قُوّت پاتا گیا اور اِسرا ئیل پر ظاہِر ہونے کے دِن تک جنگلوں میں رہا

لُوقا 1:80

جب وہ بیابان میں رہ رہا تھا تو انجیل مقدس میں اس طرح لکھا ہے۔

‘یہ یُوحنّا اُونٹ کے بالوں کی پوشاک پہنے اور چمڑے کا پٹکااپنی کمر سے باندھے رہتا تھا اور اِس کی خوراک ٹِڈّیاں اورجنگلی شہد تھا۔ ‘                                                                              متّی 3:4

حضرت یحییٰ ؑ روح سے بھرا ہوا اور اونٹ کے چمڑے کا لباس پہنتا اور جنگلی خوراک کھاتا تھا۔ وہ بیابان میں رہتا تھا۔ لیکن یہ سب اُس کی روح کی وجہ سے نہیں تھا۔ یہ ایک خاص نشان بھی تھا۔ ہم نے زبور شریف کی اختتامی کتاب میں پڑھا ہے۔ کہ راہ کی تیار کرنے والا "حضرت الیاسؑ” کی روح” میں آئے گا ۔ حضرت الیاس ؑ زبور شریف کے ایک نبی ہوئے تھے۔ جو حضرت یحییٰ ؑ سے پہلے نازل ہوئے اور بیابان میں رہتے اور جنگلی خوراک اور حضرت یحییٰ ؑ ی طرح کا لباس پہنتے تھے۔

اُنہوں نے اُسے جواب دیا کہ وہ بہت بالوں والا آدمی تھا اور چمڑے کا کمر بند اپنی کمر پر کسے ہوئے تھا۔ تب اُس نے کہا کہ یہ تو ایلیاہ (الیاس) تشبی ہے۔  2سلاطین 8: 1

لہذا جب حضرت یحییٰ ؑ چمڑے کا لباس پہنے اور بیابان میں رہ رہا تھا۔ تو اس کا مطلب تھا کہ وہ یہ ہی ہے جس کی پیش گوئی ہوئی تھی۔ کہ وہ حضرت الیاس ؑ (حضرت ایلیاہ) کی روح میں آئے گا۔ اُس کا بیابان میں رہنااور جنگلی خوراک کھانا اس بات کا اعلان تھا۔ کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں فرمایا تھا۔ وہ پورا ہورہا ہے۔

انجیل مقدس کی تاریخی تصدیق

پھر انجیل مقدس میں بتاتا گیا ہے کہ:

‘تِبرِ یُس قَیصر کی حُکومت کے پندرھویں برس جب پُنطِیُس پِیلا طُس یہُودیہ کا حاکِم تھا اور ہیرود یس گلِیل کا اور اُس کا بھائی فِلپُّس اِتُور یہِّ اور ترخونی تِس کا اور لِسانیا س اَبِلینے کا حاکِم تھا اور حنّاہ اور کائِفا سردار کاہِن تھے اُس وقت خُدا کا کلام بیابان میں زکریا ہ کے بیٹے یُوحنّا (یحییٰؑ) پر نازِل ہُؤا اور وہ یَرد ن کے سارے گِرد و نواح میں جا کر گُناہوں کی مُعافی کے لِئے تَوبہ کے بپتِسمہ کی مُنادی کرنے لگا۔                    لوقا 3: 1-3

یہ حوالہ حضرت یحییٰ ؑ کی خدمت کے تعلق سے بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ کیونکہ اُن کی خدمت کے آغاز میں ہی سے بہت سے معروف حکمرانوں کا ذکرکیا گیا۔ جس سے ان کی خدمت اور منفرد ہو جاتی ہے۔ توجہ طلب بات یہ ہے۔ کہ ان تاریخی واقعات کا ذکر کرنے کی وجہ سے۔ انجیل مقدس کو تاریخی اور آثارِقدمہ کے حساب سے تصدیق ملتی ہے۔

اگر آپ ان لوگوں کے بارے میں دریافت کرنا چاہیں۔ تیریسیس سیسر، پونسیس پائلیٹ، ہیرودیس، فلپ، لسیانیاس، اینساس اور کافیفا سب لوگ ہیں جو رومی سیکالر اور یہودی تاریخ دان تھے۔ اس طرح ہم بڑی دلیری سے کہہ سکتے ہیں۔ کہ حضرت یحییٰ کا واقعہ خالص تاریخی اور قابلِ اعتماد ریکارڑ ہے۔

چودھویں عیسوی میں طیبیرس سیسر پر چڑھی کی اور رومن سلطنت کے تختِ کو اُلٹ دیا۔ لہذا یہ اس کے اقتدار کے پندرواے (15) سال کا مطلب یہ ہے کہ حضرت یحییٰ ؑ نے اپنی تبلغ کا آغاز29 سال کی عمرمیں کیا۔

حضرت یحییٰ ؑ کی گناہوں سے توبہ کی تبلیغ اور اعتراف

تو حضرت یحییٰ ؑ نے کون سا تبلیغی خطبہ دیا تھا؟ جس طرح اُن کی زندگی بڑی سادی تھی اُسی طرح اُن کا خطبہ بھی بہت سادہ تھا۔ لیکن بلکل سچائی سے بھرا اور کڑوا لیکن قوت سے بھرپورتھا۔ انجیل شریف میں اس طرح لکھا ہے۔

اُن دِنوں میں یُوحنّا (یحییٰؑ) بپتِسمہ دینے والا آیا اور یہُودیہ کے بیابان میں یہ مُنادی کرنے لگا کہ۔ تَوبہ کرو کیونکہ آسمان کی بادشاہی نزدِیک آ گئی ہے۔

متی 3: 2

لہذا حضرت یحییٰ ؑ کے پیغام کا مقصد تھا کہ وہ اعلان کریں کہ خدا تعالیٰ کی بادشاہی قریب آگئی ہے۔ "ہم جانتے ہیں کیسے زبور شریف میں انبیاءاکرام نے "خدا تعالیٰ کی بادشاہی” کے آںے کے بارے میں پیشن گوئیاں کی تھیں۔ کہ خدا تعالیٰ کی بادشاہی آںے والی ہے۔ لیکن حضرت یحییٰ ؑ اب کہہ رہا ہے۔ وہ بادشاہی "قریب” آگئی ہے۔

لیکن وہ اُس وقت تک بادشاہی کےلیے تیار نہیں ہوسکیں گے جب تک وہ توبہ نہ کریں گے۔ حقیقت میں اگر وہ ‘توبہ’ نہیں کریں گے۔ تو وہ بادشاہی کو کھودیں گے۔ توبہ کا لفظ یونانی کے ایک لفظ "میٹانوو” "metanoeo” سے لیا گیا ہے۔ جس کا مطلب ہے۔ "اپنے زہین کو تبدیل کرنا” یا مختلف طریقے سے سوچنا ہے۔ لیکن اُن کو اس کے بارے میں مختلف طریقے سے کیا سوچنا ہے؟ حضرت یحییٰ ؑ کے پیغام کا لوگوں نے درعمل دیا اور اس کو دیکھ ہم یہ سیکھتے ہیں۔ کہ اُس نے لوگوں کو توبہ کی تبلیغ کی۔ اس کے بارے میں انجیلِ مقدس میں اس طرح لکھا ہے۔

‘اور اپنے گُناہوں کا اِقرار کر کے دریایِ یَردن میں اُس سے بپتِسمہ لِیا۔

متی 3: 6

آپ کو حضرت آدم ؑ کی نشانی میں یاد ہو گا۔ کہ کیسے حضرت آدم ؑ اور حضرت حوا ؑ نے منع کیا ہوا پھل کھایا۔

‘اور اُنہوں نے خُداوند خُدا کی آواز جو ٹھنڈے وقت باغ میں پِھرتا تھا سُنی اور آدم اور اُس کی بِیوی نے آپ کو خُداوند خُدا کے حضُورسے باغ کے درختوں میں چُھپایا۔

پیدائش 3: 8

تب ہی سے اپنے گناہوں کو چھپانے اور دوسرے کے آگے یہ ظاہر کرنا کہ میں تو بے گناہ ہوں۔ ایک قدرتی فطرت بن گئی۔ اپنے گناہوں کا اعتراف کرنا اور توبہ کرنا ہمارے لیے تقریباً ناممکن ہے۔ ہم نے دیکھا کنواری کے بیٹے کی نشانی میں کہ حضرت دوادؑ اور حضرت محمد ﷺ نے اپنے گناہوں سے توبہ کی۔ یہ ہمارے لیے کرنا بڑی مشکل ہے کیونکہ یہ ہمیں گنہگار اور شرمندگی سے نمٹنے کے لیے پیش کرتا ہے۔ لیکن حضرت یحییٰ ؑ یہ ہی تبلیغ کر رہے تھے کہ لوگ خدا تعالیٰ کی بادشاہی کے لیے تیار ہوجائیں۔

مذہبی راہنماوں کے لیے نتباہ جنہوں نے توبہ نہ کی

کچھ لوگوں نے توبہ اور اپنے گناہوں کا اقرار کیا لیکن سب نے ایسا نہ کیا۔ انجیلِ مقدس میں اس طرح لکھا ہے۔

‘مگر جب اُس نے بُہت سے فرِیسیِوں اور صدُوقِیوں کوبپتِسمہ کے لِئے اپنے پاس آتے دیکھا تو اُن سے کہا کہ اَے سانپ کے بچّو! تُم کو کِس نے جتا دِیا کہ آنے والے غضب سے بھاگو؟۔ پس تَوبہ کے موافِق پَھل لاؤ۔ اور اپنے دِلوں میں یہ کہنے کا خیال نہ کرو کہ ابراہیم ہمارا باپ ہے کیونکہ مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ خُدا اِن پتّھروں سے ابراہیم کے لِئے اَولاد پَیدا کر سکتاہے۔ اور اب درختوں کی جڑ پر کُلہاڑا رکھّا ہُؤا ہے ۔ پس جو درخت اچّھا پَھل نہیں لاتا وہ کاٹا اور آگ میں ڈالاجاتا ہے۔ ‘

متی 3: 7-10

صدوقی اور فریسی حضرت موسیٰ ؑ کی شریعت کے اُستاد تھے۔ وہ انتاہی مذہبی اور شریعت کی پابندی کے ساتھ فرمابنرداری کررہے تھے۔ وہ (نماز، روزہ، زکوۃ اور قربانی وغیرہ) باقاعدگی سے ادا کرتے۔ ہر کوئی اُن کے بارے میں یہ سوچتا تھا۔ کہ یہ تمام لیڈر شریعت کے احکام کی تکمیل کرنے اور عبادت میں سخت محنت کرتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کے منظورِ نظر ہیں۔ لیکن حضرت یحییٰ ؑ نے اُن کو "سانپ کے بچوں” کہہ کر پکارا اور خدا تعالیٰ کی آںے والی عدالت سے بچنے کے لیے انتباہ کیا۔ کیوں؟ کیونکہ اُنہوں نے اپنی توبہ کے موافق پھل نہیں لاتے تھے۔ اُنہوں نے اپنے گناہوں کا اعتراف نہ کیا بلکہ مذبی طریقوں کے زریعے وہ اپنے گناہوں کو چھپاتے رہے۔ اور وہ حضرت ابراہیم ؑ کی اولاد ہونے کہ وجہ سے اس بات پر فحر کرتے۔

 حضرت داود ؑ کا اعتراف ہمارے لیے ایک منفرد مثال

تاہم جب ہم حضرت یحییٰ ؑ  نے توبہ کی اور اعتراف کی تبلیغ کرتے ہیں تو یہ ہمارے لیے بہت ہی اہمیت رکھتی ہے۔ کیونکہ حقیقت یہ کہ ہم اس کے بغیر جنت دوسرے لفظوں میں خدا تعالیٰ کی بادشاہی میں داخل نہیں ہوسکتے۔

جب ہم صدوقیوں اور فریسیوں کے بارے دیکھتے کہ حضرت یحییٰ ؑ اُن کو  گناہ سے توبہ اوراللہ کے حضور اعتراف کرنے کے لیے کہتا ہے۔ تو معلوم ہوتا ہے کہ ایک مذہبی لیڈر ہوتے ہوئے ہم کتنی آسانی سے اپنے گناہ کو چھپالیتے ہیں۔ تو پھر میرے اور آپ کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ یہاں اس حوالے میں مجھے اور آپ کو بھی ایسا کرنے لے لیے کہا گیا۔ اس لیے ہمیں ضدی بن کر توبہ کرنے سے کنارہ نہیں کرنا چاہئے۔ اس کی بجائے ہم اپنے گناہوں کے بارے جھوٹے بہانے بنائیں اور بتائیں کہ ہم بتانے کی کوشش کریں کہ ہم نے تو کبھی گناہ کیا ہی نہیں۔ بلکہ ہم کو حضرت دوادؑ کی سنت پر عمل کرنا چاہئے۔ جب حضرت داودؑ سے گناہ ہوا تو اُنہوں نے اپنے گناہ سے توبہ کی اور اُس کا اعتراف کیا۔

‘اَے خُدا! اپنی شفقت کے مُطابِق مُجھ پر رحم کر۔ اپنی رحمت کی کثرت کے مُطابِق میری خطائیں مِٹا دے۔ میری بدی کو مُجھ سے دھو ڈال اور میرے گُناہ سے مُجھے پاک کر۔ کیونکہ مَیں اپنی خطاؤں کو مانتا ہُوں اور میرا گُناہ ہمیشہ میرے سامنے ہے۔ مَیں نے فقط تیرا ہی گُناہ کِیا ہے اور وہ کام کِیا ہے جو تیری نظر میں بُرا ہے تاکہ تُو اپنی باتوں میں راست ٹھہرے اور اپنی عدالت میں بے عَیب رہے۔ دیکھ! مَیں نے بدی میں صُورت پکڑی اور مَیں گُناہ کی حالت میں ماں کے پیٹ میں پڑا ۔ دیکھ تُو باطِن کی سچّائی پسند کرتا ہے اور باطِن ہی میں مُجھے دانائی سِکھائے گا۔ زُوفے سے مُجھے صاف کر تو مَیں پاک ہُوں گا۔ مُجھے دھو اور مَیں برف سے زِیادہ سفید ہُوں گا۔ مُجھے خُوشی اور خُرّمی کی خبرسُنا تاکہ وہ ہڈّیاں جو تُو نے توڑ ڈالی ہیں شادمان ہو ں ۔ میرے گُناہوں کی طرف سے اپنا مُنہ پھیرلے اور میری سب بدکاری مِٹا ڈال۔ اَے خُدا! میرے اندر پاک دِل پَیداکر اور میرے باطِن میں از سرِنو مُستقِیم رُوح ڈال ۔ مُجھے اپنے حضُور سے خارِج نہ کر اور اپنی پاک رُوح کو مُجھ سے جُدا نہ کر۔ اپنی نجات کی شادمانی مُجھے پِھر عِنایت کر اور مُستعِد رُوح سے مُجھے سنبھال۔ ‘

زبور 51: 1-12

توبہ کا پھل

جب ہم توبہ اور گناہ کا اعتراف کرلیتے ہیں تو پھر ہم مختلف طریقے سے زندگی بسر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

لوگوں نے حضرت یحییٰ ؑ سے کہا کہ وہ کیسے اپنی زندگی میں توبہ کے مطابق پھل لائیں۔ تو اس کے بارے میں انجیلَ مقدس میں اس کے بارے میں اس طرح آیا ہے۔

‘لوگوں نے اُس سے پُوچھا پِھر ہم کیا کریں؟ اُس نے جواب میں اُن سے کہا جِس کے پاس دو کُرتے ہوں وہ اُس کو جِس کے پاس نہ ہو بانٹ دے اور جِس کے پاس کھانا ہو وہ بھی اَیسا ہی کرے اور محصُول لینے والے بھی بپتِسمہ لینے کو آئے اور اُس سے پُوچھا کہ اَے اُستاد ہم کیا کریں؟ اُس نے اُن سے کہا جو تُمہارے لِئے مُقرّرہے اُس سے زِیادہ نہ لینا اور سِپاہیوں نے بھی اُس سے پُوچھا کہ ہم کیا کریں؟ اُس نے اُن سے کہا نہ کِسی پر ظُلم کرو اور نہ کِسی سے ناحق کُچھ لو اور اپنی تنخواہ پر کِفایت کرو ‘

لوقا 3: 10-14

کیا حضرت یحییٰ ؑ مسیح تھے؟

اُن کی تبلیغ میں خدا تعالیٰ کی قدرت دیکھ کر لوگ حیران تھے۔ اور یہ خیال کرتے تھے کہ شاید وہ مسیح ہیں۔

انجیل مقدس میں اس کے بارے میں اس طرح آیا ہے۔

‘جب لوگ مُنتظِرتھے اور سب اپنے اپنے دِل میں یُو حنّا کی بابت سوچتے تھے کہ آیا وہ مسِیح ہے یا نہیں تو یُوحنّا نے اُن سب سے جواب میں کہا مَیں تو تُمہیں پانی سے بپتِسمہ دیتا ہُوں مگر جو مُجھ سے زورآور ہے وہ آنے والا ہے  مَیں اُس کی جُوتی کا تسمہ کھولنے کے لائِق نہیں  وہ تُمہیں رُوحُ القُدس اور آگ سے بپتسِمہ دے گا اُس کا چھاج اُس کے ہاتھ میں ہے تاکہ وہ اپنے کھلیہان کو خُوب صاف کرے اور گیہُوں کو اپنے کھتّے میں جمع کرے مگر بُھوسی کو اُس آگ میں جلائے گا جو بُجھنے کی نہیں پس وہ اَور بُہت سی نصیحت کر کے لوگوں کو خُوشخبری سُناتا رہا ‘

لوقا 3: 15-18

اختتامیہ

حضرت یحییٰ ؑ اس لیے آئے کہ وہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی بادشاہت کے لیے تیار کرسکیں جو آنے والی تھی۔

لیکن اُس نے اُن کو شریعت کی تعلیم دے کر تیار نہیں کیا تھا۔ بلکہ اُس نے لوگوں کو اُن کے گناہوں سے توبہ اور اُسکا اعتراف کرنے کی تعلیم دی۔ دراصل یہ ایک بہت ہی مشکل کام ہے کہ کوئی اپنے گناہوں سے توبہ کرے۔

یہ اُس وقت کے مذہبی راہنما تھے۔ جنہوں نے اپنے گناہوں کو چھپایا اور نہ توبہ کی اور نہ ہی اُن کا اعتراف کیا۔ اس کی بجائے اُنہوں نے اپنے مذہی کاموں کے وسیلے اپنے گناہوں کو چھپایا۔ لیکن اپنی اس انتخاب کی وجہ سے وہ مسیح کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ اور نہ ہی وہ اللہ تعالیٰ کی آںے والے بادشاہی کو سمجھ سکے۔ حضرت یحییٰ ؑ کی انتباہ آج ہمارے لیے بھی اُسی طرح ہے جس طرح یہ اُس وقت تھی۔ حضرت یحییٰ ؑ چاہتا ہے کہ ہم اپنے گناہوں سے توبہ کریں اور اُن کا خدا تعالیٰ کے حضور اعتراف کریں۔

 کیا میں اور آپ ایسا کریں گے؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے