حضرت عیسیٰ مسیح کی پیدائش: انبیاء اکرام نے پیش گوئی کی اور حضرت جبرائیل نے اعلان کیا

پچھلے اسباق میں ہم نے زبور اور تورات شریف کے سروے کو مکمل کیا ہے۔ ہم نے زبور شریف کے مطالعہ کے دوران مستقبیل میں پورے ہونے والے وعدوں کا اندازہ لگایا۔

لیکن زبور شریف کی تکمیل ہوجانے کے بعد چار سو سال گزرگے تھے۔ ہم نے دیکھا کہ بہت سے مذہبی اور سیاسی واقعات اسرائیل کی تاریخ میں رونما ہوئے۔ لیکن وہ نبوتوں اور وعدوں کے انتظار میں رہے اور کوئی بھی نبی اس دور(چار سو سال) میں ناذل نہ ہوا۔ تاہم اسرائیل نے ہیرودیس اعظم کی حکمرانی کے دور میں ہیکل کو تعمیر کروایا اور اس کو اس قدر خوبصورت بنایا۔ کہ پوری رومی دنیا میں اس کی شان وشوکت مشہور تھی۔ اور اس میں قربانیاں اور عبادت مسلسل ہورہیں تھیں۔ اگرچہ ابھی اسرائیلی بہت زیادہ مذہبی اور دِلی طور پر بت پرستی کو اپنے درمیان سے ختم کررہے تھے۔ جس بت پرستی کی وجہ سے وہ انبیاء اکرام کے دور میں  پھنس گئے تھے۔  جس طرح آج ہم میں سے اکثر مذہبی سرگرمیوں میں مصروف تو ہوتے ہیں۔ لیکن ہمارے دلوں کو حقیقی تبدیلی کی ضرورت ہوتی ہے۔  الہذ! ہیرودیس اعظم کے اختامی دور 5 ق م کے دور میں ایک نبی حیرت انگیز اور زبردست پیغام کے ساتھ۔ نازل ہوا۔

حضرت جبرائیل نے حضرت یحیٰی کی آمد کا اعلان کیا

اس پیغام دینے والا حضرت جبرائیل تھا۔ ا حضرت جبرائیل کو کتابِ مقدس (بائبل) میں مقرب فرشتے کے طور پر بھی پیش کیا گیا ہے۔ حضرت جبرائیل کتابِ مقدس میں آخری دفعہ حضرت دانیال نبی کو آنے والے مسیح (یہاں دیکھیں) کے بارے میں بتانے کے لیے نازل ہوا تھا۔ اب حضرت جبرائیل حضرت زکریا پر نازل ہوا، جب وہ ہیکل میں بطور کاہین خدمت کر رہا تھا۔ حضرت زکریا اور اُس کی بیوی دونوں بوڑھے تھے اور اُنکی کوئی اولاد نہ تھی۔ لیکن حضرت جبرائیل اس پیغام کے ساتھ نازل ہوا۔ جو انجیل شریف میں موجود ہے۔

 مگر فرِشتہ نے اُس سے کہا اَے زکریا ہ! خَوف نہ کر کیونکہ تیری دُعا سُن لی گئی اور تیرے لِئے تیری بِیوی اِلیشِبَع کے بیٹا ہو گا O تُو اُس کا نام یُوحنّا رکھنا14اور تُجھے خُوشی و خُرّمی ہو گی اور بُہت سے لوگ اُس کی پَیدایش کے سبب سے خُوش ہوں گے15کیونکہ وہ خُداوندکے حضُور میں بزُرگ ہو گا اور ہرگِز نہ مَے نہ کوئی اَور شراب پِیئے گا اور اپنی ماں کے بَطن ہی سے رُوحُ القُدس سے بھر جائے گا16اور بُہت سے بنی اِسرائیل کو خُداوندکی طرف جو اُن کا خُدا ہے پھیرے گا17اور وہ ایلیّا ہ کی رُوح اور قُوّت میں اُس کے آگے آگے چلے گا کہ والِدوں کے دِل اَولاد کی طرف اور نافرمانوں کو راست بازوں کی دانائی پر چلنے کی طرف پھیرے اور خُداوند کے لِئے ایک مُستعِد قَوم تیّار کرےO

18زکریا ہ نے فرِشتہ سے کہا مَیں اِس بات کو کِس طرح جانُوں؟ کیونکہ مَیں بُوڑھا ہُوں اور میری بِیوی عُمر رسِیدہ ہےO

19فرِشتہ نے جواب میں اُس سے کہا مَیں جبرا ئیل ہُوں جو خُدا کے حضُور کھڑا رہتا ہُوں اور اِس لِئے بھیجا گیا ہُوں کہ تُجھ سے کلام کرُوں اور تُجھے اِن باتوں کی خُوشخبری دُوں20اور دیکھ جِس دِن تک یہ باتیں واقِع نہ ہو لیں تُو چُپکا رہے گا اور بول نہ سکے گا O اِس لِئے کہ تُو نے میری باتوں کا جو اپنے وقت پر پُوری ہوں گی یقِین نہ کِیاO                                 لوقا 1: 13-20

 زبور شریف کے اختتام پر یہ بتایا گیا تھا۔ کہ مسیح کی راہ کی تیاری کے لیے آنے والا نبی حضرت ایلیا نبی کی طرح کا ہوگا۔ حضرت جبرائیل نے اس وعدے کو حضرت زکریا کو یاد کروایا۔ کہ وہ ایلیاہ کی رُوح اور قُوّت میں اُس کے آگے آگے چلے گا ۔ وہ اس لیے آرہا ہے تاکہ لوگوں کے دلوں کو خداوند کے لیے تیار کرے۔ اس اعلان کا مطلب تھا۔ کہ جو نبوتیں اور وعدے کیے گے تھے۔ اُن کو اللہ تعالیٰ نے بھلا نہیں دیا۔ بلکہ ان وعدوں کو حضرت زکریا اور اُسکی بیوی کی زندگی میں اُن کے گھر پیدا ہونے والے بچے کے زریعے پورا ہونے جارہا تھے۔ تاہم، حضرت زکریا نے اس پیغام پر یقین نہ کیا اور اس لیے اُس کا بھولنا حضرت یحیٰی کی پیدائش تک بند کردیا گیا۔

حضرت جبریل ایک کنواری سے پیدا ہونے والے کی پیدائش کا اعلان کرتا ہے

اس تیاری کا مطلب یہ تھا۔ کہ لوگوں کو مسیح / مسیحا/ کرائسٹ کی آمد کے لیے تیار کیا جائے۔ یقینی طور پر چند مہینوں بعد حضرت جبرائیل جلیل کے گاوں کی ایک کنواری کے پاس ایک پیغام کے ساتھ بھیجے گئے۔ اور یہ پیغام انجیل شریف میں موجود ہے۔

 28اور فرِشتہ نے اُس کے پاس اندر آ کر کہا سلام تُجھ کو جِس پر فضل ہُؤا ہے! خُداوند تیرے ساتھ ہے. 29وہ اِس کلام سے بُہت گھبرا گئی اور سوچنے لگی کہ یہ کَیسا سلام ہے

 30فرِشتہ نے اُس سے کہا اَے مر یم! خَوف نہ کر کیونکہ خُدا کی طرف سے تُجھ پر فضل ہُؤا ہے.31اور دیکھ تُو حامِلہ ہو گی اور تیرے بیٹا ہو گااُس کانام یِسُو ع رکھنا. 32وہ بزُرگ ہو گا اور خُدا تعالےٰ کا بیٹا کہلائے گا اور خُداوند خُدا اُس کے باپ داؤُد کا تخت اُسے دے گا 33اور وہ یعقُو ب کے گھرانے پر ابد تک بادشاہی کرے گا اور اُس کی بادشاہی کا آخِر نہ ہو گا

34مریم نے فرِشتہ سے کہا یہ کیوں کر ہو گا جبکہ میں مَرد کو نہیں جانتی؟

35اور فرِشتہ نے جواب میں اُس سے کہا کہ رُوحُ القُدس تُجھ پر نازِل ہو گا اور خُدا تعالےٰ کی قُدرت تُجھ پر سایہ ڈالے گی اور اِس سبب سے وہ مَولُودِ مُقدّس خُدا کا بیٹاکہلائے گا36اور دیکھ تیری رِشتہ دار اِلیشِبَع کے بھی بُڑھاپے میں بیٹا ہونے والا ہے اور اب اُس کو جو بانجھ کہلاتی تھی چھٹا مہینہ ہے 37کیونکہ جو قَول خُدا کی طرف سے ہے وہ ہرگِز بے تاثِیر نہ ہو گا

38مریم نے کہا دیکھ مَیں خُداوندکی بندی ہُوںمیرے لِئے تیرے قَول کے مُوافِق ہوتب فرِشتہ اُس کے پاس سے چلا گیا                                                            لوقا 1: 28-38

   ۔ حضرت جبرائیل کے اعلان میں ہم ایک حیران کردینے والی بات “خدا کا بیٹا” کو سنتے ہیں۔ میں نے اپنے مضمون میں اس کے بارے میں مزید بحث کی ہے (جو یہاں موجود ہے)۔ لیکن ہم پیدائش کے بارے میں اپنے مضمون کو جاری رکھیں گے۔

حضرت یحیٰی نبی کی پیدائش

جس طرح زبور شریف میں پیش گوئی کی گئی تھی۔ یہ واقع پیش گوئی کے مطابق بلکل اُسی طرح رونما ہوا۔

حضرت ملاکی نبی نے راہ کی تیاری کرنے والے کے بارے بتایا تھا۔ کہ وہ حضرت ایلیا کی روح اور قوت میں چلے گا۔ اب حضرت جبرائیل اُس کی پیدائش کی خبر لیے کر موجود ہوا۔ انجیل شریف اس واقع کو اس طرح بیان کرتی ہے۔

57اور اِلیشِبَع کے وضعِ حمل کا وقت آ پُہنچا اور اُس کے بیٹا ہُؤا 58اور اُس کے پڑوسِیوں اور رِشتہ داروں نے یہ سُن کر کہ خُداوندنے اُس پر بڑی رحمت کی اُس کے ساتھ خُوشی منائی

59اور آٹھویں دِن اَیسا ہُؤا کہ وہ لڑکے کا خَتنہ کرنے آئے اور اُس کا نام اُس کے باپ کے نام پر زکر یاہ رکھنے لگے60مگر اُس کی ماں نے کہا نہیں بلکہ اُس کا نام یُوحنّا رکھّا جائے

61اُنہوں نے اُس سے کہا کہ تیرے کُنبے میں کِسی کا یہ نام نہیں 62اور اُنہوں نے اُس کے باپ کو اِشارہ کِیا کہ تُو اُس کا نام کیا رکھنا چاہتا ہے؟

63اُس نے تختی منگا کر یہ لِکھا کہ اُس کا نام یُوحنّا ہے اور سب نے تعجُّب کِیا64اُسی دَم اُس کا مُنہ اور زُبان کُھل گئی اور وہ بولنے اور خُدا کی حمد کرنے لگا 65اور اُن کے آس پاس کے سب رہنے والوں پر دہشت چھا گئی اور یہُودیہ کے تمام پہاڑی مُلک میں اِن سب باتوں کا چرچا پَھیل گیا 66اور سب سُننے والوں نے اُن کو دِل میں سوچ کر کہا تو یہ لڑکا کَیسا ہونے والا ہے؟ کیونکہ خُداوند کا ہاتھ اُس پر تھا                                            لوقا 1: 57-66

حضرت عیسیٰ المسیح کی پیدائش

حضرت یسعیاہ نے ایک بے مثال پیش گوئی (یہاں مکمل وضاحت کے لیے کلک کریں۔) کی تھی۔ جو اس طرح ہے۔

لیکن خُداوند آپ تُم کو ایک نِشان بخشے گا ۔ دیکھو ایک کُنواری حامِلہ ہو گی اور بیٹا پَیدا ہو گا اور وہ اُس کانام عِمّانُوایل رکھّے گی۔                                      یسعیاہ 7: 14

 اب مقرب فرشتہ جبرائیل حضرت مریم کو پیدائش کی خبر دیتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ ایک کنواری خاتون کے پاس آیا۔  جس نبوت کو حضرت یسعیاہ نے لمبے عرصے پہلے بتادیا تھا۔ اور یہ اُسکی تکمل تھی۔ اس کو انجیل شریف میں اس طرح درج کیا گیا ہے۔

4پس یُوسف بھی گلِیل کے شہر ناصرۃ سے داؤُد کے شہر بَیت لحم کو گیا جو یہُودیہ میں ہےاِس لِئے کہ وہ داؤُد کے گھرانے اور اَولاد سے تھا 5تاکہ اپنی منگیتر مریم کے ساتھ جو حامِلہ تھی نام لِکھوائے 6جب وہ وہاں تھے تو اَیسا ہُؤا کہ اُس کے وضعِ حمل کا وقت آ پُہنچا 7اور اُس کا پہلوٹابیٹا پَیدا ہُؤا اور اُس نے اُس کو کپڑے میں لپیٹ کر چرنی میں رکھّاکیونکہ اُن کے واسطے سرائے میں جگہ نہ تھی.

8اُسی عِلاقہ میں چرواہے تھے جو رات کو مَیدان میں رہ کر اپنے گلّہ کی نِگہبانی کر رہے تھے9اور خُداوندکا فرِشتہ اُن کے پاس آ کھڑا ہُؤا اور خُداوندکا جلال اُن کے چَوگِرد چمکا اور وہ نِہایت ڈر گئے10مگر فرِشتہ نے اُن سے کہا ڈرو مت کیونکہ دیکھو مَیں تُمہیں بڑی خُوشی کی بشارت دیتا ہُوں جو ساری اُمّت کے واسطے ہو گی.11کہ آج داؤُد کے شہر میں تُمہارے لِئے ایک مُنجّی پَیدا ہُؤا ہے یعنی مسِیح خُداوند.12اور اِس کا تُمہارے لِئے یہ نِشان ہے کہ تُم ایک بچّہ کو کپڑے میں لِپٹا اور چرنی میں پڑا ہُؤا پاؤ گے.

13اور یکایک اُس فرِشتہ کے ساتھ آسمانی لشکر کی ایک گروہ خُدا کی حمد کرتی اور یہ کہتی ظاہِر ہُوئی کہ.

14عالَمِ بالا پر خُدا کی تمجِید ہو

اور زمِین پر اُن آدَمِیوں میں جِن سے وہ راضی ہے صُلح.

15جب فرِشتے اُن کے پاس سے آسمان پر چلے گئے تو اَیسا ہُؤا کہ چرواہوں نے آپس میں کہا کہ آؤ بَیت لحم تک چلیں اور یہ بات جو ہُوئی ہے اور جِس کی خُداوند نے ہم کو خبر دی ہے دیکھیں

16پس اُنہوں نے جلدی سے جا کر مریم اور یُوسف کو دیکھا اور اُس بچّہ کو چرنی میں پڑا پایا 17اور اُنہیں دیکھ کر وہ بات جو اُس لڑکے کے حق میں اُن سے کہی گئی تھی مشہُور کی18اور سب سُننے والوں نے اِن باتوں پر جو چرواہوں نے اُن سے کہِیں تعجُّب کِیا 19مگر مر یم اِن سب باتوں کو اپنے دِل میں رکھ کر غَور کرتی رہی. 20اور چرواہے جَیسا اُن سے کہا گیا تھا وَیسا ہی سب کُچھ سُن کر اور دیکھ کر خُدا کی تمجِید اور حمد کرتے ہُوئے لَوٹ گئے

21جب آٹھ دِن پُورے ہُوئے اور اُس کے خَتنہ کا وقت آیا تو اُس کا نام یِسُو ع رکھا گیا جو فرِشتہ نے اُس کے رَحِم میںپڑنے سے پہلے رکھّا تھا                  لوقا 2: 4-21

آنے والے دونوں عظیم انبیاء اکرام کا کردار

یہ دونوں عظیم انبیاء اکرام ایک دوسرے سے چند مہینوں کے عرصے کے وقفے میں پیدا ہوئے۔ دونوں کے بارے میں سینکڑوں سال پہلے کی گئیں پیشن گوئیاں پوری ہوئیں۔ اُن کی زندگیوں سے ہمارے لیے کیا پیغام ملتا ہے؟ حضرت یحیٰی کے والد حضرت زکریا نے دونوں کے بارے میں نبوت کی۔

67اور اُس کا باپ زکر یاہ رُوحُ القُدس سے بھر گیا اور نبُوّت کی راہ سے کہنے لگا کہO

68خُداوند اِسرا ئیل کے خُدا کی حمد ہو

کیونکہ اُس نے اپنی اُمّت پر توجُّہ کر کے اُسے

چُھٹکارا دِیاO

69اور اپنے خادِم داؤُد کے گھرانے میں

ہمارے لِئے نجات کا سِینگ نِکالاO

70(جَیسا اُس نے اپنے پاک نبِیوں کی زُبانی کہا تھا

جو کہ دُنیا کے شرُوع سے ہوتے آئے ہیں)O

71یعنی ہم کو ہمار ے دُشمنوں سے

اور سب کِینہ رکھنے والوں کے ہاتھ سے نجات

بخشیO

72تاکہ ہمارے باپ دادا پر رحم کرے

اور اپنے پاک عہد کو یاد فرمائےO

73یعنی اُس قَسم کو جو اُس نے ہمارے باپ ابرہا م

سے کھائی تھیO

74کہ وہ ہمیں یہ عِنایت کرے گا کہ اپنے دُشمنوں

کے ہاتھ سے چُھوٹ کرO

75اُس کے حضُور پاکِیزگی اور راست بازی سے

عُمر بھر بے خَوف اُس کی عِبادت کریںO

76اور اَے لڑکے تُو خُدا تعالےٰ کا نبی کہلائے گا

کیونکہ تُو خُداوند کی راہیں تیّار کرنے کو اُس

کے آگے آگے چلے گاO

77تاکہ اُس کی اُمّت کو نجات کا عِلم بخشے

جو اُن کو گُناہوں کی مُعافی سے حاصِل ہوO

78یہ ہمارے خُدا کی عَین رحمت سے ہوگا

جِس کے سبب سے عالمِ بالا کا آفتاب ہم پر

طلُوع کرے گاO

79تاکہ اُن کو جو اندھیرے اور مَوت کے سایہ میں

بَیٹھے ہیں رَوشنی بخشے

اور ہمارے قدموں کو سلامتی کی راہ پر ڈالےO      لوقا 1: 67-79

حضرت زکریا نے حضرت عیسیٰ المسیح کی پیدائش کے بارے حضرت داود نبی کی معرفت حوصلہ افزائی کی  پیشن گوئیوں کو دوہرایا۔ جن کا حضرت ابراہیم کے ساتھ وعدہ کیا گیا تھا۔ (یہاں وعدوں کو جاننے کے لیے کلک کریں) اللہ تعالٰی کا منصوبہ جو صدیوں پہلے بیان کیا جا چکا تھا۔ اب اپنے عروج پر تھا۔ لیکن اس منصوبے میں کیا تھا۔ کیا اس رومی حکومت سے نجات حاصل کرنا مراد تھی؟ کیا حضرت موسیٰ کی شریعت کو تبیل کرکے ایک نئی شریعت نافذ کرنا مراد تھی؟ یا کیا کوئی نیا مذہب یا نئی سیاسی نظام متعارف کروانا مراد تھا۔ ان میں سے کوئی (اس میں ہم جیسے انسانوں کی سوچ شامل نہیں تھی)  بھی ایک نہیں جن کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس کے بجائے اس منصوبے کی وضاحت اس طرح تھی۔

کہ اپنے گناہوں کی معافی کے زریعے نجات حاصل کریں اور تاکہ ہم اُس خدا واحد کی عبادت پاکیزگی اور راستبازی کے ساتھ کریں۔ یہ خدا کی ہم پر رحمت تھی۔ اور اُن پر جو موت کی وادی میں رہتے تھے کامل راہنمائی۔ حضرت آدم سے لیکر ہم اپنے گناہوں کی وجہ سے موت کی قید میں تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے منصوبے کا اعلان حضرت آدم، اماں حوا اور ابلیس کے سامنے کردیا تھا۔ کہ ایک شخص عورت کی نسل پیدا ہوگا۔  یقیناً اس قسم کا منصوبہ کسی جنگ، یا نظام سے بہتر تھا کہ ہم اُس پر عمل کرتے۔ اس منصوبے سے ہم اپنی اہم ضروریات کو پورا کرسکتے تھے۔ لیکن یہ کس طرح منصوبہ تیار کیا گیا اور بیان کیا گیا کہ مسیح آئے گا۔ ہم اپنے ان جوابات کے بارے میں معلوم کرتے جائیں گے۔ جیسے جیسے ہم انجیل شریف کے مطالعہ میں بڑھتے جائیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *