قرآن شریف میں انجیل مقدس کا نمونہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نشانی ہے

جب میں نے پہلی بار قرآن شریف کا مطالعہ کیا تو مطالعہ کے دوران میں بُہت سی باتوں کو سمجھ نہ سکا ۔سب سے پہلی بات قرآن شریف میں انجیل مقدس کے بہت سے براہ راست اور واضح حوالہ جات موجود تھے۔ بلکہ جس طور سے قرآن شریف میں انجیل مقدس کا ذکر ہوا ہے، اس نے حقیقت میں مجھے اُلجھا دیا تھا۔

ذیل میں قرآن شریف کی وہ آیات ہیں جو انجیل مقدس کا براہ راست ذکر کرتی ہیں۔ شاید آپ بھی اسی طریقہ کار  کا مشاہدہ کر لیں جس کا مشاہدہ میں نے کیا۔ ان آیات کو پڑھ کر کیا۔

سورة العمران 3:3-4

                        اُس نے (اے محمد) تم پر سچی کتاب نازل کی جو پہلی (آسمانی )کتابوں کی تصدیق کرتی ہے اور اُسی نے تورات اور انجیل نازل کی۔ (یعنی) لوگوں کی ہدایت کے لیے پہلے (تورات اور انجیل اتاری) ور(پھر قرآن جو حق اور باطل کو) الگ الگ کر دینے والا(ہے)نازل کیا۔ جو لوگ خدا کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں ان کو سخت عذاب ہوگا اور خدا زبردست (اور ) بدلہ لینے والا ہے۔

 سورة العمران 3: 48

                        اور وہ انہیں لکھنا (پڑھنا) اور دانائی اور تورات اور انجیل سکھائیگا۔

سورة العمران 3: 65

                        اے اہل کتاب تم ابراہیم ؑ کے بارے میں کیوں جھگڑتے ہو حالانکہ تورات اور انجیل اُن کے بعد اتری ہیں (اور وہ پہلے ہو چکے ہیں ) تو کیا تم عقل نہیں رکھتے ۔

سورةا لمائدہ 5: 46

                        اور ان پیغمبروں کے بعد انہی کے قدموں پر ہم نے عیسٰی بن مریم کو بھیجا جو اپنے سے پہلے کی کتاب تورات کی تصدیق کرتے تھے اور ان کو انجیل عنایت کی جس میں ہدایت اور نور ہے اور تورات کی جو اس سے پہلی کتاب (ہے) تصدیق کرتی ہے اور پرہیز گاروں کو راہ بتاتی اور نصیحت کرتی ہے۔

سورةا لمائدہ 5: 66

                        اور اگر وہ تورات اور انجیل کو اور جو (اور کتابیں) ان کے پروردگار کی طرف سے ان پر نازل ہوئیں ان کو قائم رکھتے(تو ان پر رزق مینہ کی طرح برستا کہ ) اپنے اوپر سے اور پاﺅں کے نیچے سے کھاتے ان میں کچھ لوگ میانہ رو ہیں اور بہت سے ایسے ہیں جن کے اعمال برے ہیں۔

سورةا لمائدہ 5: 68

                        کہو کہ اے اہلِ کتاب! جب تک تم تورات اور انجیل کو اور جو (اور کتابیں)تمہارے پروردِگار کی طرف سے تم لوگوں پر نازل ہوئیں ان کو قائم نہ رکھو گے کچھ بھی راہ پر نہیں ہو سکتے اور یہ (قرآن ) جو تمہارے پروردِگار کی طرف سے تم پر نازل ہوا ہے اس سے ان میں سے اکثر کی سرکشی اور کُفر اور بڑھے گا تو تم قومِ کفار پر افسوس نہ کرو۔

سورةا لمائدہ 5: 110

                        ۔۔۔اور جب میں نے تم(عیسٰی) کو کتاب اور دانائی اور تورات اور انجیل سکھائی ۔۔۔

سورة التوبہ 9: 111

                        ۔۔۔ یہ تورات اور انجیل اور قرآن میں سچا وعدہ ہے جس کا پوُرا کرنا اُسے ضرور ہے اور خدا سے زیادہ وعدہ پُورا کرنے والا کون ہے؟۔۔۔

سورة فتح 48: 29

                        ۔۔۔ (کثرت ) سجود کے اثر سے اُن کی پیشانیوں پر نشان پڑے ہوئے ہیں اُنکے یہی اوصاف تورات میں (مرقوم) ہیں ۔اور یہی اوصاف انجیل میں ہیں ۔۔۔

جب آپ قرآن شریف میں سے انجیل مقدس کے تمام حوالہ جات کو اکٹھا کرکے پڑھتے ہیں تو انجیل مقدس کبھی تنہا نظر نہیں آتی ۔ انجیل مقدس کے ہر ایک حوالے کے ساتھ لفظ شریعت کی اصطلاح جڑی ہوئی ہے۔ شریعت میں وہ کتابیں شامل ہیں جو حضرت موسی ؑ پر نازل ہوئی تھیں۔ جن کو مسلمان عام طور پر تورات شریف اور یہودی(اسرائیل) توراۃ کہتے ہیں۔ انجیل مقدس تمام مقدس کتابوں میں سے منفرد ہے۔ اسی لیے کہ اس کا ذکر کبھی تنہا نہیں ہوا۔ مثال کے طور پر آپ قرآن شریف اور تورات شریف کے تنہا حوالہ جات تلاش کر سکتے ہیں ۔

یہاں کچھ مثالیں ہیں۔

سورة الانعام 6: 154-155

                        ہم نے موسیؑ کو کتاب عنایت کی تھی تاکہ ان لوگوں پر جو نیکو کار ہیں نعمت پوری کر دیں اور( اُس میں )ہر چیز کا بیان (ہے)اور ہدایت (ہے)اور رحمت ہے، تاکہ (انکی امت کے) لوگ اپنے پروردگار کے روبرو حاضر ہونے کا یقین کریں۔ اور (اے کفر کرنے والو) یہ کتاب بھی ہمیں نے اتاری ہے برکت والی ۔ تو اس کی پیروی کرو اور (خدا سے) ڈرو تاکہ تم پر مہربانی کی جائے۔

سورة النسآء4: 82

                        بھلا یہ قرآن میں غور کیوں نہیں کرتے ۔ اگر یہ خدا کے سوا کسی اور کا (کلام) ہوتا تو اس میں (بہت) اختلاف پاتے۔

دوسرے الفاظ میں ہم جب بھی قرآن شریف میں انجیل مقدس کا ذکر پاتے ہیں ۔ تو ہمیشہ اس کے ساتھ ساتھ تورات کا بھی ذکر کیا جا تا ہے اور یہ ایک منفرد بات ہے۔ جب بھی قرآن شریف دوسری کتابوں کا حوالہ دیتا ہے تو خود کا ذکر الگ کرتا ہے۔ یعنی قرآن شریف دوسری کتابوں (توریت) کے ساتھ اپنا ذکرنہیں کرتا۔

یہ نمونہ جاری رہتا ہے لیکن اس میں ایک فرق موجود ہے

  اس نمونہ میں صرف ایک ہی فرق بات پائی جاتی ہے۔ اس بات کو جاننے کے لیے زر ا دیکھیں کہ اِس درج آیت میں کس طرح انجیل مقدس کا ذکر کیا جاتا ہے۔

سورة الحدید57:27

پھر اُن کے پیچھے انہی کے قدموں پر (اور) پیغمبر بھیجے(نوح ؑ ، ابراہیم ؑ اور پیغمبروں) اور اُن کے پیچھے مریمؑ کے بیٹے عیسٰیؑ کو بھیجا اور ان کو انجیل عنایت کی اور جن لوگوں نے اُن کی پیروی کی اُن کے دلوں میں شفقت اور مہربانی ڈال دی۔ ۔۔

تاہم یہاں پر ایک ہی مثال ہے۔

جس میں تورات شریف کا ذکر کیے بغیر  انجیل مقدس کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہی آیت اس نمونہ کی تصدیق کرتی ہے۔ آیت 26 (پچھلی آیت) میں نوحؑ ، ابراہیم ؑ اور دوسرے پیغمبروں کا ذکر آیا ہے۔ اِس آیت میں انجیل کا ذکر کیا گیا ہے۔ جب کہ اس واقعہ کا تعلق تورات میں سے ہے۔ جو موسٰی ؑ پر نازل ہوئی اسی نے حضرت نوح ؑ، ابراہیم ؑ اور دوسرے پیغمبروں کی وضاحت کی ہے۔ یہاں یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ وہ نمونہ قائم رہتا ہے۔ جہاں بھی انجیل کا ذکر ہو گا تو تورات کا بھی ذکر ہوگا۔

انبیاء اکرام سے ہمارے لیے ایک نشانی

 کیا یہ نمونہ اہم ہے؟ شاید اس نمونہ میں بے ترتیبی کی موجودگی کی وجہ سے کوئی اس نمونہ کو مسترد کردیا جائے۔ یا پھر انجیل مقدس کا سادہ طریقے سے حوالہ دیتے ہیں۔  میں نے قرآن شریف میں اس نمونے کو بڑھی سنجیدگی سے سیکھا ہے۔ شاہد یہ ہمارے لیے ایک اہم نشان ہو سکتا ہے۔ تاکہ ہمارے اُوپر اس نمونہ کو ظاہر کرنے میں مدد ملے کہ جن کو اصولوں کو اللہ تعالیٰ نے خود قائم کئے ہیں ۔ تاکہ ہم تورات شریف کے ذریعے سے انجیل مقدس کو سمجھ سکیں۔ اس لیے انجیل مقدس کو سمجھنے کے لیے پہلے تورات کو سمجھنا پڑے گا۔ یہ قابل قدر ہو سکتا ہے کہ پہلے ہم تورات شریف کا جائزہ لیں اور پھر انجیل مقدس کے بارے بہتر طور پر سیکھ سکیں گے۔

کیا قرآن شریف نے ہمیں بتایا ہے کہ انبیاء اکرام ہمارے لیے نشانی تھے۔ اس آیت میں قرآن شریف یوں کہتا ہے۔ غور کریں

سورة الاعراف 7: 35 -36

اے بنی آدمؑ (ہم تم کو یہ نصیحت ہمشہ کرتے رہے ہیں کہ) جب ہمارے پیغمبر تمہارے پاس آیا کریں اور ہماری آیتیں تم کو سنایا کریں (تو اُن پر ایمان لایا کرو) کہ جو شخص (اُن پر ایمان لا کر خدا سے) ڈرتا رہے گا اور اپنی حالت درست رکھے گا تو ایسے لوگوں کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہونگے ۔ اور جنہوں نے ہماری آیتوں کو جُھٹلایا اور اُن سے سر تابی کی وہی دوزخی ہیں کہ ہمشہ اُس میں (جلتے ) رہیں گے۔

دوسرے الفاظ میں نبیوں کی زندگیاں ہمارے لیے نشانیاں ہیں جس میں حضر ت آدم کی اولاد کے لیے پیغام ہے۔ کیونکہ جو عقل مند ہو گا وہ ان نشانیوں کو سمجھنے کی کوشش کرے گا۔ تو آئیں ہم تورات شریف کے ذریعے انجیل مقدس پر غور کرنا شروع کریں۔ غور کریں کہ نبیوں نے ہمیں کون سی نشانیاں دی ہیں ۔ جن کے وسیلے سے ہم راہِ حق کی تلاش کر سکتے ہیں۔ قیامت کا دن آنے سے پہلے ہمیں اس بات سے با خبر ہونا ہوگا کہ تورات شریف کس طرح راہِ حق کے لیے نشانی ہے۔

ابتدائی طور پر ہم حضرت آدم کی نشانی سے شروع کرتے ہیں ۔ شاید آپ اسی سوال کاجواب دینے سے شروع کرنا چاہتے ہوں۔ کہ کیا تورات شریف ، شریف زبور، شریف انجیل بدل گئی ہیں؟ قرآن شریف اور سُنت اس اہم سوال کے بارے میں ہمیں کیا کہتے ہیں ؟ قیامت کا دِن آنے سے پہلے ہمیں اس بات سے با خبر ہونا ہوگا کہ تورات شریف کس طرح راہِ حق کے لیے نشانی ہے۔

سورة الحدید 57:26

اور ہم نے نوحؑ اور ابراہیم ؑ کو (پیغمبر بنا کر) نھیجا اور اُن کی اولاد میں پیغمبری اور کتاب ( کے سلسلے) کو (وقتا ًفوقتاً جاری) رکھا تو بعض تو اُن میں سے ہدایت پر ہیں ۔اور اکثر اُن میں سے خارج از اطاعت ہیں۔

14 thoughts on “قرآن شریف میں انجیل مقدس کا نمونہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نشانی ہے”

  1. Mzgatwhgbnzhudjdnnxnnmzb kamsjv nnminxhehb ahdbggnssbtenzubyecbosmvxfzgauanhzmsundmdonxhbfmnhndhfmfifgnxtndhxhndrssagsnidhduzrN kksidmmc ldmhehf jdngfmoe nnxubex hfuemmdhdmdoengeyjsvgsjssjxif

  2. Quran is the only pure book of Allah.It is a complete code of life.
    After believing in Quran, our believe on Injeel & Taurat is completed.
    Your research is appreciable.
    Thanks for relieving facts.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *